جنرل ضیاءالحق شہیدؒ کے اسلام کے لیے کیے گئے کام

جنرل ضیاءالحق شہیدؒ کے اسلام کے لیے کیے گئے کام مندرجہ ذیل ہیں
“میں نے نظام اسلام نافذ کرنے کا وعدہ کیا اور بار بار کیا اور اس کے لیے اپنی سی کوششیں بھی کیں اور میں اسکا اعتراف کرتا ہوں کہ میں اس میں ناکام رہا ”

جنرل ضیاءالحق شہیدؒ کا یہ اعتراف سابق امیر جماعت اسلامی میاں محمد طفیل نے ہفت روزہ ” سیاسی لوگ
“میں شائع کیا

اس کے باوجود میاں محمد طفیل اعتراف کرتے ہیں کہ جنرل ضیاءالحق شہیدؒ نے اکیلے اپنے دور میں باوجود تمام تر مشکلات اور اختلافات کے نفاذ اسلام کے لیے جتنا کام کیا اسکا دسواں حصہ بھی اس سے پہلے اور بعد کی آنی والی تمام سیاسی و غیر سیاسی حکومتیں اور مذہبی جماعتیں ملکر بھی نہ کر سکیں

اسکے کیے گئے کام کی مختصر مختصر تفصیل پیش خدمت ہے

1۔ حد قذف کے قانون کا نفاذ

2۔ حد زنا کے قانون کا نفاذ

3۔ حرابہ ( حد ڈاکہ ) کے قانون کا نفاذ

4۔ حد سرقہ کے قانون کا نفاذ

5۔ اسلامی قانون شریعت کا نفاذ

6۔ نظام صلواۃ کی ترویج اور دفاتر میں اسکے قیام کی کوشش جسکی وجہ سے سرکاری دفاتر ، ایوان صدر اور مسلح افواج کے میس کہلانے والے اداروں میں باقاعدہ نماز باجماعت ادا کی جانے لگی

7۔ زکواۃ اور عشر کے سرکاری تحصیل و تقسیم کے نظام کا قیام

8۔شریعت کورٹ کا قیام

9۔ اسلام اباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا قیام

10۔ دینی مدارس کی سندات کو ملک کی عام یونیورسٹی، کالجوں کی سندات کے ہم پلہ قرار دینا اور انکے لیے سرکاری ملازمت کے دروازے کھولنا

11۔ گورنمنٹ ھاؤسوں اور سرکاری تقاریب اور میسوں کو شراب نوشی اور فواحش سے پاک کرنا

12۔ ہوائی جہازوں کو اپنی پروازیں مسنونہ دعا سے شروع کرنے کا پابند بنانا اور پی آئی اے کی غیر ملکی پروازوں میں بھی شراب نوشی سے مہمان نوازی بند کروا دینا

13۔ سرکاری سطح پر سیرت کمیٹیوں کا قیام اور انکے تحت بین الاقوامی سطح پر سیرت کانفرنسوں کا انعقاد

14۔سیرت نبویﷺ پر ملک کی مختلف زبانوں میں لکھی جانے والی بہترین کتب پر صدارتی ایوارڈ دینا

15۔ قومی زبان اور لباس کو اندرون اور بیرون ملک میں اس کا اصل مقام دینا جب بڑھتے ہوئے پینٹ شرٹ کی جگہ سرکاری دفاتر اور تقاریب میں قومی لباس اور زبان کو دوبارہ عام کیا گیا یہاں تک کہ غیر ملکی مہمانوں کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیوں وغیرہ میں بھی صدر مملکت کی تقاریر قومی زبان میں کی جانے لگیں جیسا کہ ہر غیرمند قوم کا طریقہ ہے

16۔ سرکاری ذرائع ابلاغ ( ٹی وی ریڈیو اور پریس ٹرسٹ ) کو صریحاً لاقانونیت اور خلاف اسلام باتوں سے روک کر اسلامی اور پاکستانی نظریاتی حدود کا پابند بنانے کی کوشش کرنا

17۔ ضیاءالحق ہی پاکستان کے پہلے اور واحد لیڈر ہیں جس نے سود کے خاتمے کی پہلی عملی کوشش کی اور پاکستانی بینکوں میں بلاسود کھاتوں کا آغاز ہوا اس سلسلے میں سکالرز اور دانشورں کو دعوت دی گئی کہ ایک متبادل اسلامی معاشی نظام کا خاکہ تیار کریں جس پر اس وقت ایسے ایسے تحقیقی مقالے لکھے گئےجن کو دنیا بھر میں شہرت ملی

18۔ پچھلے چند سو سال کی اسلامی تاریخ میں جنرل ضیاءالحق شہیدؒ پہلے مسلمان سپاہ سالار ہیں جس نے جہاد اور فلسفہ جہاد کو دوبارہ زندہ کرتے ہوئے دنیا کی ایک بڑی اور ظالم حملہ آور قوت کو شکست دی بعض سکالرز کے نزدیک یہ عالم اسلام کی قریباً 800 سال بعد پہلی بڑی فتح تھی جس میں کم از کم نصف درجن سے زائد اسلامی ممالک کو آزادی ملی اور اسی جہادی روح کی بدولت آج امریکہ شکست کے دھانے پر ہے امریکہ نے جنرل ضیاءالحق کو تو مار دیا تھا لیکن اسکی روح آج بھی پاکستان کی اٖفغان پالیسی پر چھائی ہوئی ہے اور امریکہ سے برسرپیکار ہے

19۔ پاکستان جب سے بنا ہے تب سے آج تک پاکستان میں فحاشی بتدریج بڑھتی رہی خاص کر پیپلز پارٹی کے ہر دور حکومت میں اسکو کبھی کسی بھی لیڈر نے روکنے کی کوشش نہیں کی جنرل ضیاءالحق پاکستان کے واحد لیڈر تھے جس نے نہ صرف اسکو پوری قوت سے روک دیا تھا بلکہ اسکو ریورس گیئر لگا دی تھی جس پر احمق اور نام نہاد قسم کے دانشوروں نے تبصرہ کیا کہ ” ضیاءالحق نے پائل کی جھنکار کا گلہ گھونٹ دیا ضیاء ظالم اور سفاک ہے

20۔ پاک فوج کا نعرہ ایمان ، تقوی اور جہاد فی سبیل اللہ ضیاءالحق ہی کا دیا ہوا ہے

21۔ سرکاری تقاریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت سے حتی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی جنرل ضیاءالحق نے اپنی تقریر کا آغاز تلاوت قرآن سے کیا جسکی آواز پوری دنیا میں گونج اٹھی

جنرل ضیاءالحق شہیدؒ کا نفاذ اسلام کے لیے کام بتدریج جاری تھا کسی تیل سے چلنی والی مشین کی طرح جو یکساں رفتار سے مسلسل چلتی رہتی ہے کاش وہ کچھ عرصہ اور رہتا !!

جنرل ضیاء الحق شہیدؒ ہم پر اسلام نافذ نہ کر سکا شائد ہم اس قابل ہی نہ تھے لیکن اس نے کہا تھا کہ “میں اگر اسلامی نظام نافذ نہ بھی کر سکا تب بھی اتنا ضرور کر جاؤنگا کہ اسکے بعد کسی کے لیے وہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی” اور اس نے کر دکھایا

جنرل ضیاءالحق شہیدؒ کیوں ناکام رہے یہ بھی ہماری تاریخ کا ایک عجیب افسوسناک اور سیاہ باب ہے
پہلی بات کے پاکستان جب سے وجود میں آیا تھا اس میں نظام شریعت نہیں تھی بلکے جمہوریت تھی
جب نفاذ شریعت کا اعلان ہوا ایک فرقہ کے لوگوں نے پارلیمنٹ کا محاصرہ کر لیا
دوسری طرف لبرل سیکولر عورتوں نے سڑکوں پہ آ کے آپنے دوپٹے تک جلا دئیے روس وطن عزیز پاکستان کی سرحدوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا جنرل ضیاءالحق شہیدؒ اب اندرونی دشمنوں سے لڑتے یا بیرونی دشمنوں سے اس وقت تو پاکستان ایٹمی طاقت بھی نہیں تھا ایٹمی طاقت کا خواب بھٹو صاحب نے ضرور دیکھا مگر اس کی تکمیل جنرل محمد ضیاءالحق شہیدؒ کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی
پیج ایڈمن جنرل اختر عبدالرحمن شہیدؒ

مزید دیکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close